گوپی شرما کا ڈاکٹر
گوپی شرما کا ڈاکٹر
میرانام ہمیش شرما ھے اور میرا تعلق پاکستان سندھ کے علاقے حیدرآباد سے ھے میں ہندو دھرم سے تعلق رکھتا ھوں ھم لوگ اندرون سندھ ایک گوٹھ <گاؤں> سے ھے میری بڑی بہن گوپی شرما کی شادی ہمارے پاس والے گاؤں میں ہوئی تھی ہمارے کزن جو کہ ایک نجی کمپنی کا ڈرائیور تھا بچے باز تھا سالہ اسی لئیے
وہ میری دیدی گوپی کی شرو ع دن سے گانڈ مارتا رہا گوپی ھماری بہت خوبصورت بہن تھی گورا چٹا رنگ تیکھے نین نقش پتلی صراحی جیسی گردن لال شربتی ھونٹ میری بہن گوپی پوجا پاٹ میں بہت مگن رہتی تھی اسے آپ گھریلو شریف لڑکی کہہ سکتے ھیں یہ تھا مختصر سا تعارف جو میں نے کروایا چلئیے آگے پڑھتے ھیں ھمارے نامور رائیٹر نواب زادہ کیا لکھتے ھیں سنئیے ہمیش کیا کہہ رہا ھے دوستو میں گرمیوں کے چھٹیوں میں بالکل فارغ تھا اور اپنی بہن کے ہسبنڈ اپنی چھٹیوں میں اپنے ایک دوست کے ہاں کراچی گئے ہوئے تھے
اس وجہ سے انہوں نے ایک ہفتے کیلئے مجھے ساتھ رہنے کیلئے بلایا۔ویسے میں ان کے وہاں کبھی مہینے میں کبھی دو ہفتوں میں ضرور چکر لگایا کرتا تھا۔معمول کے مطابق میں اپنی آپی گوپی کے گھر گیالیکن ان دنوں وہ دائیں پاؤں میں رگ نساء کے درد سے بری طرح بد حال تھی اور اٹھنے بیٹھنے میں کافی تکلیف سے گزر رہی تھی۔آپی گوپی کی یہ تکلیف مجھ سے دیکھی نہ گئی اور میں نے گوپی کو کسی ڈاکٹر سے علاج کروانے کا مشورہ دیا ۔
ڈاکٹر یا حکیم سے علاج کےذکر پر گوپی نے مایوسی کا اظہار کیا کہ میرے ساتھ جانے کیلئے گھر پر مکیش صاحب موجود نہیں ورنہ شہر میں رگ نساء کے ایک مشہور ڈاکٹر ھیں جورگ نساء کا انجکشن کے ذریعے علاج کرتے ھیں اسکا ایڈریس گوپی کی ایک مسلمان سہیلی نے دیا ۔خیر میں گوپی کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی حامی بھر لی جس پر گوپی بہت خوش ہوئی۔اور میں اور گوپی صبح ہم حیدرآباد سٹی روانہ ہوگئے۔
وہاں پہنچ کر ڈاکٹر شاہد صاحب کے کلینک جو کہ ان کے گھر کے حجرے میں تھی اور مریضوں کیلئے الگ ایک کمرہ مختص کیا تھا جس میں عورتوں کے لئے الگ ایک سائیڈ پر پردوں کا اہتمام کیا تھا۔شاہد صاحب کچھ 32 سال یا اس سے اوپر کی ایج کے ہلکی ہلکی داڑھی جیسے ٹی وی ایکٹر فواد خان کی ھے ایک چست و چالاک مگر صحت مند نظر آنے والا جوان تھا اور اس نے گلووز بھی پہن رکھے تھے۔
رسمی دعا سلام کے ھم نے اپنا مدعا بیان کیا اسکے بعد اس نے گوپی سے بیماری اور ازدواجی زندگی مثلآ بچوں وغیرہ کے بارے میں پوچھا اور گوپی نے اپنی ٹانگ میں رگ نساء کی تکلیف اور ساتھ میں ڈاکٹر صاحب کو اپنی فیملی پلاننگ کے بارے میں آگاہ کیا اور رگ نساء کی انجکشن لگانے کی عرض سے آنے کی وجہ بیان کی۔اس دوران میں میں یہ بات نوٹ کر رہا تھا کہ وہ بار بار سوالات پوچھنے کے بہانے اس کے چھورہا تھا دودھ اور گانڈ کا چور نظروں سے احاطہ کر رہا تھا گوپی بولی ڈاکٹر صاحب مجھے آرام چاھئیے تو ڈاکٹر صاحب بولے آپ کو آرام بھی آ جاۓ گا اور آپ ماں بھی بن جاؤں گی
ڈاکٹر صاحب گوپی سے بولے سب سے پہلے آپکا چیک اپ ھوگا اور ویری فکیشن کے بعد آپ کا علاج ھوگا کیا آپ ماں بننا چاھتی ھو تو گوپی نے اپنا سرہاں میں ہلا دیا
پھر ڈاکٹر صاحب نے ہمیں کیبن سےکمرے میں جانے کیلئے کہا ۔ میں اور میری آپی گوپی شرما اندر کمرے میں عورتوں والی مخصوص جگہ میں داخل ہو گئے جہاں پر ایک سٹریچر نما چارپائی پڑی ہوئی تھی۔وہاں پر ڈاکٹرشاہد صاحب نے گوپی کو سٹریچر پر الٹا لٹا کرمتاثرہ ٹانگ کا چیک اپ شروع کیا اور ساتھ ساتھ چیک اپ کے بہانے کبھی کبھی میری جوان بہن کی کمر اور کبھی گانڈ کے ایک سائیڈ کو دبا کر پوچھتا کہ یہاں درد ہو رہا ہے،اور
وہ ہاں میں اپنا سر ہلا کر جواب دیتی رہی۔کافی دیر چپک اپ کے بعد ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تمہاری بیماری کچھ زیادہ بڑھ گئی ہے اور انجکشن لگانے سے پہلے میں ایک مخصوص قسم کے تیل جو کہ میں نے رگ نساء کے مریضوں کیلئے منگوایا ہے اس تیل سے آپکی کمر اور ٹانگ کا مالش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔دوستوں اپ لوگ تو جانتے ہیں کہ ڈاکٹر اور پیرلوگہ کو ہم دیہاتی لوگ ایک مسیحا سمجھتے ہیں اور اس کے دئیے گئے مشورے کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔سو میری شرمیلی سی بہن نے نہایت شرماتے ہوئے مالش کیلئے سر تسلیم خم کر کے پہلے مجھے دیکھا اور پھر ہاں میں سر ہلا دیا
بس یوں سمجھیں کہ اپنی سیل پیک چوت پلیٹ میں رکھ کر اسے پیش کر دی ۔اور ویسے بھی میری عمر اتنی نہیں تھی کہ میں اس بارے میں سوچتا کہ کوئی غیر مرد کسی غیر لڑکی کا مساج کرکے کوئی برا کام کر رہا ہے اور غیر مرد بھی ایک ڈاکٹر ہی تو تھا جس کے پیچھے ہم اتنا فاصلہ طے کر کے آئے تھے۔ڈاکٹر شاہد صاحب نے میری بہن گوپی شرما کو شلوار کا ناڑہ کھولنے کا کہا جس پر میری بہن شرم سے پانی پانی ہو گئ جس کی وجہ یہ تھی کہ گوپی نے کبھی خوابوں میں بھی غیر مرد کے آگے لیٹ کر ناڑہ کھولنے کا سوچا بھی نہیں ہوگا۔لیکن ناڑہ کھولنا اس کی مجبوری تھی اور آخر کار گوپی نے لیٹے ہوئی پوزیشن میں ایک ہاتھ سےاپنا ناڑہ کھول کر اپنے ایک سائیڈ سے شلوار تھوڑی نیچے کی طرف کھسکائی اور پھر وہیں چھوڑ دی ۔
لیکن شاہدصاحب نے کہا کہ ایسے نہیں گوپی میں آپکی مکمل ٹانگ کو کمر سمیت نیچے پاؤں تک مالش کروں گا جس پر میری معصوم اور شریف بہن نے اثبات میں سر ہلایا اور شاہد صاحب کو شلوار کو مزید نیچے پیروں تک لے جانے کی پرمیشن مل گئی۔اور اس نے فٹا فٹ گوپی کی شلوار نیچے پیروں تک اتارنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا اب اسکے سامنے میری گوری ٹانگوں والی بہن گوپی شرما ننگی لیٹی ھوئی تھی جسکی کچھ دنوں پہلے ہی شادی ھوئی تھی
اس وقت آپی کی چھوٹی سی گانڈ اور بغیر بالوں والی سکن اور ہیپس کے درمیان بند ہونٹوں والی پھدی بالکل صاف نظر آرہی تھی۔اس دوران ڈاکٹر صاحب نے کمر سے لے کر پوری ٹانگ پر تیل ڈال کر مساج شروع کیا اور آپی گوپی نے بھی اپنا سر پیٹ کے بل اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھ کر خاموش لیٹی رہی۔میں بھی ایک سائیڈ پہ کھڑا یہ سب دیکھ کر بڑا عجیب محسوس کر رہا تھا۔اسی اثنا میں نوجوان ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہا کہ جا بیٹا آرام سے دوسرے کمرے میں بیٹھ جا میں مالش کر کے انجکشن لگانے کے دوران تمہیں بلاؤں گا۔
میں نے باجی کی آنکھوں میں دیکھا تو اس نے بھی کہا کہ ہاں بھائ صاحب صحیح کہ رہے ہے اور ادھر کھڑے کھڑے تم تھک جاؤگے جا کر وہاں آرام سے بیٹھ جاؤ۔میں بھی بادل نحواستہ باجی جی کو ڈاکٹر صاحب کی رحم و کرم پر چھوڑ کر دوسرے کمرے میں آگیا۔کچھ منٹ بعد میں نے سوچا کہ اب شاید مالش کا سلسلہ ختم ہوا ہوگا اور ویسے بھی مجھے اندر جانے کیلئے کسی پرمیشن کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اندر میری اپنی سگی بہن تھی کوئی غیر عورت تو نہیں تھی۔لیکن پھر بھی میں نے سیدھا کلینک والے کمرے میں جانے کے بجائے دوسرے کمرے کی طرف لگی ونڈو سے کے ھول سے دیکھنے پر اکتفا کیا۔کھڑکی آدھے سے بھی کم کھلی ہوئی تھی جہا ں سے اندر کا نظارہ کھڑکی کے اوٹ میں کھڑے ہو کر کیا جا سکتا تھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ ڈاکٹر نے آپی گوپی کے سفید دودھیا جسم کو مکمل طور پر شلوار قمیض کے قید سے آزاد کر کے سیدھا لٹا کر اس کی ٹانگوں کو کھول کر اس کے باریک ہونٹوں والے پھدی کو کسی شیر کیطرح چاٹ رہے ہے تھے۔ اور آپی مکمل طور پر ڈاکٹر شاہد کا ساتھ دے رہی تھی۔شاید اسے بھی مزاہ مل رہا تھا
مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا مگر چپ چاپ یہ سب دیکھ رہا تھا اور کم عمر ہونے کی وجہ سے اندر جانے کی ہمت نہیں ہورہی تھ۔اچانک ڈاکٹر شاہد نے اپنی شلوار اور قمیص اتار کر بالکل ننگا ہو گیا اور آپی کو دونوں ٹانگوں سے پکڑ کر سٹریچر کے تلوؤں کی طرف بڑی پھرتی سے گھسیٹا جس کی وجہ سے آپی کے مالٹے سائز کے بوبز اوپر نیچے ہونے لگے۔ڈاکٹر شاہد اب آپی کے چھوٹے سائز بوبز پر جھپٹ پڑےاور آپی بھی اپنی ساری تکلیف بھول کر خود اپنی ٹانگیں ہوا میں اٹھا کرشاہد کو اپنی کنواری چُوت میں راڈ نما لنڈ کو انجکشن لگانے کی دعوت دینے لگی.ڈاکٹر شاہد نے گوپی سے کہا آپکی شوہر نے شاید آپکی چوت نہیں ماری ورنہ
تم قدرت کا وہ شاہکار ھو اگر میرےجیسے کے ہاتھ لگ جاتی تو آپ اب تک پریگنٹ ھوچکی ھوتی مالک کی کرپا سے گوپی شرما گئ اور بولی میں تمہارا بچہ کیسے پیدا کرسکتی ھوں تمہارا دھرم اور ھے اور میں ہندو ھوں میں نے ماں کو بچن دیا تھا کہ اپنے پتی سے بیوفائی نہیں کروں گی تو شاہد بولا اس کا مطلب ھے تم ماں بننے کا احساس کھوچکی ھو
گوپی تڑپ کر بولی نہیں نہیں ایسے کیسے میں یہ احساس کھو چکی ھوں اچھا چلو ٹھیک ھے آپکا ساتھ دوں گی آپ کردو مجھے پریگنٹ مگر یہ بات ھمیشہ راز ھی رھیگی تو شاہد نے خوشی سے گوپی کا ماتھا چوم لیا اور بولا آئی پرامس پر تجھے بھی ایک وعدہ کرنا ھوگا مجھ سے بولو منظور ھے تو گوپی بولی پہلے بتاؤ تو
شاہد بولا کہ اگر بیٹا ھوا تو اسکا نام فرحان رکھوگی تو گوپی نے اپنی ہاتھ شرماتے ھوۓ اپنی چہرے پر رکھ لئیے اور بولی اتنا تو میں کر سکتی ھوں مجھے منظور ھے گوپی نے اپنی ٹانگیں کھول کر اپنی رضامندی ظاہر کر دی
اس مسلمان ڈاکٹر نے سیدھا اس کے دونوں ٹانگوں کو اپنے کندھوں پررکھ کر ٹانگوں کو گوپی شرما کی چھاتیوں کیساتھ لگایا اور پھر اپنے نوکدار مسلم لوڑے کو گوپی شرما کی گوری پھدی پر سیٹ کیا اور ایک زور دار جھٹکا مارا۔گوپی کو اس ڈاکٹر سے اچانک وار کرنے کی بالکل توقع نہیں تھی۔اااااہ مممم ممم مر گئی ھئے بھگوان تیری گنگا میلی ہو گئ رے باپ رے بہت بڑا ھے تمہارا
اس اچانک حملے کی تاب نہ لاتے ہوئے میری آپی کے منہ سے ایک زوردار چیخ نکل گئی اور اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر شاہد نے اپنے دونوں مضبوط ٹانگوں کے بیچ کس کر کے پکڑ لیا۔جس کی وجہ سے اس کو آگے پیچھے ہلنا مشکل ہو گیا۔ڈاکٹر صاحب کو کچھ لمحے ٹانگوں میں کس کے پکڑنے کے بعد گوپی نے اپنی ٹانگوں کی گرفت ڈھیلی کرکے خود ڈاکٹر صاحب کو پیش قدمی کا موقع دے دیا۔ایک بار پھر ڈاکٹر صاحب نے وہی پہلا والا پش شارٹ استعمال کرکے دوسرا زور دار جھٹکا مارا لیکن اس بار گوپی نے خود کو مکمل طور پر خود کو ڈاکٹر شاہد کے حوالے کر دیا۔
پھر گوپی بھی شاہد کو رسپانس دینے لگی اور شاہد کا سرخ نوکدار لنڈ گوپی کی صندوری ہندو چوت میں سما گیا لوڑا مہاراج اپنی جگہ بنا چکا تھا۔ شہوت میں بار بار گوپی اپنے ہونٹوں کو اپنی زبان کی مدد سے تر کرنے کی کوشش کرنےلگی۔پتہ نہیں ڈاکٹر صاحب نے کونسا معجون کھایا تھا کیونکہ اس نے اتنی شاندار چدائی کا میں آج بھی سوچتے ہوئے حیران رہ جاتا ہوں۔اور گوپی کی بھی جسمانی طور پر چیز ایسی تھی کہ جس کو چود کر بے حال کرنا شاید ہمارے گوپی کے ہسبنڈ مکیش کی بس کی بات نہیں تھی۔لیکن آج شاید اسے زندگی میں پہلی بار جاندار لوڑا مل گیا تھااور لوڑے کو بھی پہلی بار ایک دم کنواری چُوت مل گئی تھی۔
اس وجہ سے گوپی نے بھی پہلی بار خود کو کسی غیر مرد کے حوالے کر دیا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے کچھ دس منٹ تک گوپی کی ٹانگیں کندھوں پر اٹھا کر زبردست قسم کی چدائی کی پھر شاہد نے گوپی کو گھوڑی بنا کر پیچھے سے اپنا لنڈ ایک تیز جھٹکے کیساتھ پورا اندر کیا اور اس کے دونوں بوبز کو پکڑ کر تیز تیز جھٹکے لگانے شروع کئے۔مجھے گوپی کو دیکھتے ہوئے غصے کیساتھ ساتھ ترس بھی آ رہا تھا کیونکہ ڈاکٹر نے گوپی کا بہت برا حال کردیا تھا۔اس کا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا اور وہ بار بار ڈاکٹر صاحب کے نیچے سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ لیکن شاہد نے اسے بالوں کی چوٹی سے اتنی مضبوطی کے ساتھ پکڑ رکھا تھا کہ اس کا نکلنا مشکل تھا۔
کچھ منٹ بعد گوپی کی چوت سے پانی کی بوندیں ٹپکنے لگیں اور اس کے منہ سے شہوت بھری آوازیں بلند ہونے لگیں اور ساتھ وہ آگے کی طرف منہ کے بل نڈھال ہو کر گر پڑی اور شاہد نے اپنا لنڈ نکال کر کپڑے سے صاف کیا اور گوپی کو دوبارہ سیدھا لیٹنے کیلئے کہا۔گوپی نے ہاتھ جوڑ کر منت کی کہ بس مجھ میں اور طاقت نہیں ہے لیکن شاہد نے کہا کہ اب مجھے آپ کو پریگنٹ کرنا ھے۔یوں گوپی نہ چاہتے ہوئے بھی سیدھی لیٹ گئی اور اپنی چوت کو اپنے ہاتھ کے انگلیوں سے دھیرے دھیرے مسلتی رہی۔ میں نے سوچا کہ بس کھیل ختم ہوا لیکن شاہد صاحب کہاں اتنی آسانی سےاتنےاچھی گوری ہندو مال کو چھوڑنے والے تھے۔اس نے گوپی کو پھر سے سیدھا لٹایا اور اسکی درد والی ٹانگ اپنے کندھے پر رکھ کر
ڈاکٹرشاہد نے اپنالنڈ اب پوری جان سے میری بہن گوپی کی چوت میں گھسا دیا اور اسکے دو بال تھپ تھپ کی آواز نکال کر گوپی دیدی کی چوت کا باجا بجا رھے تھے
گوپی کی سسکاریاں اب بڑھ رھی تھیں۔۔۔اااااہ اممم اممم ااہ ااہ ششش شششش شاہد گوپی مر جائے گی اف وہ ڈاکٹر شاہد کے سینے پر مکا مارتے ھوۓ وارفتگی سے بولی آرام سے نہیں کر سکتے ہاۓ بھگوان آرام مار ڈالا رے دھیرے سے نہیں ڈال سکتے ھو تم گھوڑے جتنالنڈ گھیسیڑ دیا میری چھوٹی سی چوت میں تو شاہد مسکرا کر بولا ہر منزل کچھ کھو کر ھی پائی جاتی ھے جلد ھی
تم انجواۓ کروگی اپنی ٹانگیں میری کمرکے گرد لپیٹ لو اور میرا ساتھ دو تو گوپی نے شاہد کا حکم بجا لاتے ھوۓ اپنی ٹانگیں لپیٹ دیں اور ڈاکٹر شاہد نے اب اس ہندو چوت کو پیلنا شرو ع کر دیا تھا شاہد کا نوکدارلن گوپی کی چوت کے اندر باہر ھورہا تھا کچھ ھی دیر پہلے دھرم کا راگ الاپنے والی اب اپنی کمر اچھال کر شاہد کا ساتھ دے رھی تھی آہ فک می فک می ہارڈ آہ فک می ام آہ آہ تیز میرے راجہ آہ اسی سیکسی آوازوں اور سسکیوں کے شور میں دونوں کا آرگیزم ھوگا شاھد کی سپرم لاوا بن کر گوپی کی چوت سے باہر آ رھا تھا
دونوں نے بڑی دیر تک اپنا پانی چھوڑا تھا اور شاہد ابھی تک میری بہن کے اوپر ھی تھا پھر چند منٹ اسی حالت میں لیٹے رھنے کے بعد گوپی نے شاہد کا منہ چوم لیا شاید گوپی کی طرف سے اسکی مردانگی کا انعام تھا اگلے چند دن بھی گوپی اپنا چیک اپ کروانے جاتی رھی
جس سے اسکا سارا درد اڑن شوہ ھو گیا تھا اب وہ رکھیل بن گئ تھی ڈاکٹر شاہد کی دن رات اسی کیساتھ فون پر گپ شپ کرتی رھتی پھر ایک دن امی نے کہا ہمیش بیٹا تم ماموں بن گئے ھو اپنی گوپی کو نارمل ڈلیوری سے بچہ پیدا ھوا ھے
آپی گوپی نے اپنے بچے کا نام فرحان ھی رکھا جس کے نین نقش ڈاکٹر شاھد کے جیسے ھی تھے ھم سب اپنی بہن کے ماں بننے پر بہت خوش ھیں گوپی بھی اس نئے احساس سے بہت خوش تھی اف اااااہ واو کیا شرارتیں کرتے ھیں ابھی تک گوپی اور شاھد شاید اسے بھی نئے لنڈ کی لٹ لگ گئی ھے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں