میرا نام وسیم ہے میرا تعلق ملتان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے میرے گھر کےکل 5 افراد ہیں .میں میری امی میرے ابّا جی میری دو بہن ہیں. سب سے پہلے میری بڑی بہن ہے جس کا نام فضیلہ ہے وہ شادی شدہ ہے اور دو بچوں کی ماں ہے . پِھر دوسرے نمبر میرا ہے میری بھی شادی ہو چکی ہے اور آخر میں میری چھوٹی بہن نبیلہ ہے جو کے ابھی غیر شادی شدہ ہے. اب میں اصل کہانی کی طرف آتا ہوں یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میٹرک کر کے فارغ ہوا تھا اور آگے پڑھنے کے لیے ملتان شہر کے ایک کالج میں جاتا تھا . میرے ابّا جی ایک زمیندار تھے ہمارے پاس اپنی10 ایکڑ زمین تھی .

 خونی رشتے (قسط نمبر 1)


میرا نام وسیم ہے میرا تعلق ملتان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے میرے گھر کےکل 5 افراد ہیں .میں میری امی میرے ابّا جی میری دو بہن ہیں. سب سے پہلے میری بڑی بہن ہے جس کا نام فضیلہ ہے وہ شادی شدہ ہے اور دو بچوں کی ماں ہے . پِھر دوسرے نمبر میرا ہے میری بھی شادی ہو چکی ہے اور آخر میں میری چھوٹی بہن نبیلہ ہے جو کے ابھی غیر شادی شدہ ہے. اب میں اصل کہانی کی طرف آتا ہوں یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میٹرک کر کے فارغ ہوا تھا اور آگے پڑھنے کے لیے ملتان شہر کے ایک کالج میں جاتا تھا . میرے ابّا جی ایک زمیندار تھے ہمارے پاس اپنی10 ایکڑ زمین تھی .ابّا جی کے ایک چھوٹا بھائی تھا آدھی زمین اس کی تھی آدھی میرے ابّا جی کی تھی میرے ابّا جی اور چا چا اپنے اپنے حصے کی زمین پے کاشتکاری کیا کرتے تھے جس سے ہمارے گھر کا نظام چلتا تھا. جب میرا کالج کا آخری سال چل رہا تھا تو میرے چھوٹا چا چا اس نے میرے ابّا جی کو کہا کے وہ زمین بیچ کر اپنی فیملی کے ساتھ لاہور شہر میں جا کر سیٹ ہونا چاہتا ہے اور اپنے بیٹیوں کو شہر میں ہی اچھا پڑھانا چاہتا ہے میرے چا چےکی صرف 2 بیٹیاں ہی تھیں ، اِس لیے وہ اپنے حصے کی زمین بیچا چاہتا ہے. میرے ابّا جی نے بہت سمجھایا کے یہاں ہی رہو یہاں رہ کر اپنی بیٹیوں کو پڑھا لو لیکن اپنی زمین . نہیں بیچو لیکن میرا چا چا نہیں مانا اور آخر کار میرے ابّا جی نے اپنی بھی اور چا چے کی بھی زمین بیچ دی اور آدھی رقم چھوٹے چا چے کو دے دی اور آدھی رقم کو بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلوا کر جمع کروا دی. اور پِھر ایک دن میرا چا چا اپنی فیملی کے ساتھ لاہور شہر چلا گیا . اور میرے ابّا جی بھی گھر کے ہو کر رہ گئے . میری بڑی باجی کی عمر اس وقعت 27 سال ہو چکی تھی میرے ابّا جی نے زمین کے کچھ پیسوں سے باجی کی شادی کر دی میری باجی کی شادی بھی اپنے رشتہ داروں میں ہو ہوئی تھی میری باجی کا میاں میری خالہ کا ہی بیٹا تھا. میں نے جب کالج میں بارہویں جماعت پاس کر لی تو میرے گھر کے حالات اب آگے پڑھنے کی اِجازَت نہیں دیتے تھے. اور میں نے بھی اپنے گھر کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے ابّا جی پے بوجھ بنا گوارہ نہ کیا اور گھر کو سنبھالنے کا سوچ لیا. میں نے یہاں وہاں پے روزگار کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا . پِھر میں نے باہر کے ملک جانے کا سوچا پہلے تو میرے ابّا جی نے منع کر دیا لیکن پِھر میں نے ان کو گھر کے حالات سمجھا کر قائل کر لیا اور ابّا جی کے پاس جو باقی پیسے تھے ان پیسوں سے مجھے باہر سعودیہ بھیج دیا اور میں22 سال کی عمر میں ہی روزگار کے لیے سعودیہ چلا گیا. سعودیہ آ کر پہلے تو مجھے بہت مشکل وقعت برداشت کرنا پڑا لیکن پِھر کوئی 1 سال بعد میں یہاں سیٹ ہو گیا میں نے یہاں آ کر ڈرائیونگ سیکھ لی اور پِھر یہاں پے ہی ٹیکسی چلانے لگا . شروع شروع میں مجھے ٹیکسی کے کام کا اتنا نہیں پتہ تھا لیکن پِھر آہستہ آہستہ مجھے سب پتہ چلتا گیا اور میں ایک دن میں 14گھنٹے لگاتار ٹیکسی چلا کر پیسے کماتا تھا . آہستہ آہستہ میری محنت سے پاکستان میں میرے گھر کے حالات ٹھیک ہونے لگے اور تقریباً 5 سال میں میں 2 دفعہ ہی پاکستان گیا لیکن اِس محنت کی وجہ سے میرے گھر کے حالات کافی زیادہ ٹھیک ہو چکے تھے میں نے اپنے گھر کو کافی زیادہ اچھا اور مضبوط بنا لیا تھا ہمارا گھر 10مرلہ کا تھا پہلے وہ ایک حویلی نما گھر ہی تھا اس میں 3 کمرے اور کچن اور باتھ روم ہی تھا . پِھر میں نے سعودیہ میں رہ کر سب سے پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کیا آب وہ حویلی نما گھر مکمل گھر بن چکا تھا اس کو ٹھیک کر کروا کر 2 سٹوری والا گھر بنا لیا پہلی سٹوری پے 3 ہی کمرے تھے اور دوسری اسٹوری پے 2 اور کمرے باتھ روم اور کچن بنا لیے تھے . مجھے سعودیہ میں کام کرتے ہوئے کوئی 6سال ہو چکے تھے اس وقعت میری عمر 28سال تھی تو میرے ابّا جی نے میری شادی کا سوچا اور مجھے پاکستان بلا کر اپنے چھوٹے بھائی یعنی میری چا چے کی بڑی بیٹی سائمہ سے میری شادی کر دی. سائمہ کی عمر 25 سال تھی وہ میری چھوٹی بہن کی ہم عمر تھی . شہر میں رہ کر شہر کے ماحول زیادہ پسند کرتی تھی . اِس لیے میں جب سعودیہ چلا جاتا تھا تو وہ زیادہ تر اپنے ماں باپ کے گھر لاہور میں ہی رہتی تھی . جب میں پاکستان شادی کے لیے آیا تو ابّا جی نے میری شادی بڑی دھوم دھام سے کی اور میں بھی خوش تھا مجھے سائمہ شروع سے ہی پسند تھی وہ خوبصورت بھی تھی اور سڈول اور سیکسی جسم کی مالک تھی . اس کا قد بھی ٹھیک تھا اور گورا چاا اور بھرا ہوا جسم رکھتی تھی. سہاگ رات کو میں بہت خوش تھا کیونکہ آج سے مجھے ساری زندگی سائمہ کے جسم سے مزہ لینا تھا برات والے دن سب کام ختم ہو کر میں جب رات کو اپنے کمرے میں گیا تو سائمہ دلہن بنی بیٹھی تھی .میں نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور پِھر دوسرے لوگوں کی طرح میں نے بھی اس سے کافی باتیں کی اور قسمیں وعدے لیے اور دیئے اور پِھر میں نے اپنی سہاگ رات کو سائمہ کو صبح 4 بجے تک جم کر 3 دفعہ چودا . میں ویسے بھی زمیندار کا بیٹا تھا گاؤں کے ماحول میں ہی زیادہ تر رہا تھا خالص چیزیں کھانے کا شوقین تھا میرا جسم بھی ٹھیک ٹھا ک تھا اور میرا ہتھیار بھی کافی مضبوط اور لمبا تھا تقریباً 7 انچ لمبا میرا لوں تھا . جس کی وجہ سے میں نے سائمہ کو پہلی ہی رات میں جام کر چودا تھا جس کا اس کو بھی ٹھیک ٹھا ک پتہ لگا تھا . کیونکہ صبح کو اس کی کمر میں درد ہو رہی تھی. جس کو میری چھوٹی بہن نبیلہ نے محسوس کر لیا تھا کیونکہ وہ سائمہ کی سہیلی بھی تھی . لیکن جب میں صبح سو کر اٹھا تو سائمہ میرے سے پہلے اٹھ چکی تھی اور وہ اندر باتھ روم میں نہا رہی تھی . میں نے جب بیڈ کی شیٹ پے نظر ماری تو مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ بیڈ کی سفید چادر بالکل صاف تھی اس پے سائمہ کی پھدی کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا اور جہاں تک مجھے پتہ تھا یہ سائمہ کی زندگی کی پہلی چدائی تھی اور اِس میں تو اس کا میرے کافی اچھے اور مضبوط لن سے اس کی پھدی کی سیل ٹوٹنی چاہیے تھی اور خون بھی نکلنا چاہیے تھا . بس اِس ہی سوال نے میرا دماغ خراب کر دیا تھا. اگلے دن ولیمہ تھا اور میں سارا دن بس یہ سوچ میں تھا کے کیا سائمہ کی پھدی سیل نہیں تھی . کیا وہ پہلے بھی کسی سے کروا چکی ہے . یا لاہور میں اس کا کوئی یار ہے جس سے وہ اپنی پھدی مروا چکی ہے . بس یہ ہی میرے دماغ میں چل رہے تھے . یوں ہی ولیمہ والا دن بھی گزر گیا اور رات ہو گئی اور اس رات بھی میں نے 2 دفعہ جم کر سائمہ کی پھدی ماری لیکن سیل پھدی والی بات میرے دماغ سے نکل ہی نہیں رہی تھی . میں حیران تھا کے سائمہ دو دن سے دِل وجان سے مجھ سے چودوا رہی ہے اور کھل کر میرا ساتھ دے رہی ہے اور ہنسی خوشی میرے ساتھ بات بھی کر رہی لیکن پتہ نہیں کیوں میرا دماغ بس سائمہ کی سیل پھدی والی بات پے ہی اٹک گیا تھا اور میں نے اپنے دِل و دماغ میں ہی وہم پال لیا تھا. ہر بندے کی خواہش ہوتی ہے اس کی ہونے والی بِیوِی صاف اور پاکباز ہو اور سیل پیک ہو لیکن میرے ساتھ تو شاید دھوکہ ہی ہو گیا تھا . ولیمہ والی رات بھی گزر گئی اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی میں کروں تو کیا کروں اور کس سے اپنے دِل کی بات کروں . اور پِھر اگلی صبح سائمہ کے گھر والے آ گئے اور سائمہ اس دن دو پہر کو اپنے ماں باپ کے ساتھ لاہور اپنے گھر چلی گئی . سائمہ کے چلے جانے کے بعد میں بس اپنے کمرے میں ہی پڑا رہا بس اپنے وہم کے بارے میں ہی سوچتا رہا میری بڑی باجی فضیلہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ گھر پے ہی آئی ہوئی تھی شادی کے بعد وہ اپنے گھر سسرال نہیں گئی تھی. میں شام تک اپنے کمرے میں ہی تھا تو 6 بجے کے وقعت ہو گا جب فضیلہ باجی میرے کمرے میں آئی اور لائٹ آن کر کے میرے بیڈ کے پاس آ گئی میں اس وقعت جاگ رہا تھا . باجی میرے پاس آ کر بولی وسیم کیا ہوا ہے یوں کمرے میں اکیلا کیوں بیٹھا ہے باہر سب ا می ابّا جی تمھارا پوچھ رہے ہیں . میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور بولا باجی بس ویسے ہی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور لیٹا ہوا تھا . باجی میرے بیڈ پے بیٹھ گئی اور میرے ماتھے پے ہاتھ رکھا تو مجھے بخار وغیرہ تو نہیں تھا اِس لیے باجی بولی تمہیں بخار بھی نہیں ہے پِھر طبیعت کیوں خراب ہے. میں نے کہا ویسے ہی باجی تھکن سی ہو گئی تھی تو جسم میں دردتھی . باجی نے کہا چل میرا بھائی لیٹ جا میں تیرا جسم دبا دیتی ہوں . میں نے کہا نہیں باجی میں بالکل ٹھیک ہوں بس تھوڑی سی تھکن کی وجہ سے ہے آپ پریشان نہ ہوں . میں بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور باجی سے بولا چلو باجی باہر ہی چلتے ہیں تو باجی اور میں باہر آ گئے باہر صحن میں سب بیٹھے چائے پی رہے تھے . میں بھی وہاں بیٹھ گیا اور چائے پینے لگا اور یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگا . گھر میں شاید نبیلہ ہی تھی جو میری ہر پریشانی اور بات کو سمجھ جایا کرتی تھی وہ باجی کے چلے جانے کے بَعْد بھی میرا بہت خیال رکھتی تھی گھر کی سا ری ذمہ داری اس پے تھی ابّا جی اور ا می کا خیال گھر کے کام سب وہ اکیلا کرتی تھی میں وہاں کافی دیر تک بیٹھ رہا باجی اور نبیلہ اٹھ کر کچن میں رات کا كھانا بنانے چلی گئی . اور میں وہاں سے اٹھ کر سیدھا چھت پے چلا گیا اور وہاں چار پای رکھی تھی اس پے لیٹ گیا اور دوباہ پِھر سائمہ کے بارے میں سوچنے لگا. . تقریبا 1 گھنٹے بعد نبیلہ چھت پے آئی اور آ کر بولی وسیم بھائی كھانا تیار ہو گیا ہے نیچے آ جاؤ سب انتظار کر رہے ہیں . میں نے کہا ٹھیک ہے تم چلو میں آتا ہوں وہ یہ کہہ کر نیچے چلی گئی اور میں بھی وہاں سے اٹھ کر نیچے آ گیا اور سب کے ساتھ مل بیٹھ کر كھانا کھانے لگا کھانے کے دوران بھی میں بس خاموش ہی تھا.جاری ہے۔۔۔۔۔۔( نوٹ ہر صرف دو ہی قسط سینڈ ہوگی کیونکہ ساتھ ساتھ کہانی لکھی بھی ہے )

تبصرے