خونی رشتے ( قسط نمبر 2) كھانا کھا کر میں تھوڑی دیر تک امی اور ابّا جی سے باتیں کرتا رہا اور پِھر اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا اور آ کر بیڈ پے لیٹ گیا میں سوچنے لگا مجھے سائمہ سے بات کرنی چاہیے اور اپنا شق کو ختم کرنا چاہیے . پِھر میں یہ ہی سوچتا سوچتا سو گیا اگلے دن دو پہر کا وقعت تھا جب میں اپنے کمرے میں بیٹھ ٹی وی دیکھ رہا تھا تو فضیلہ باجی میرے کمرے میں آ گئی اور آ کر میرے ساتھ بیڈ پے بیٹھ گئی
خونی رشتے ( قسط نمبر 2)
كھانا کھا کر میں تھوڑی دیر تک امی اور ابّا جی سے باتیں کرتا رہا اور پِھر اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا اور آ کر بیڈ پے لیٹ گیا میں سوچنے لگا مجھے سائمہ سے بات کرنی چاہیے اور اپنا شق کو ختم کرنا چاہیے . پِھر میں یہ ہی سوچتا سوچتا سو گیا اگلے دن دو پہر کا وقعت تھا جب میں اپنے کمرے میں بیٹھ ٹی وی دیکھ رہا تھا تو فضیلہ باجی میرے کمرے میں آ گئی اور آ کر میرے ساتھ بیڈ پے بیٹھ گئی. کچھ دیر تک وہ بھی خاموشی سے ٹی وی دیکھتی رہی پِھر کچھ ہی دیر بعد بولی وسیم مجھے تم سے ایک بات پوچھنی ہے . میں نے ٹی وی کی آواز آہستہ کر دی اور باجی کی طرف دیکھ کر بولا کہو باجی آپ کو کیا پوچھنا ہے. باجی بولی وسیم میں 3 دن سے دیکھ رہی ہوں تم بہت چُپ چُپ رہتے ہو شادی تک تم اتنا خوش تھے اور شادی کی رات تک اتنا خوش نظر آ رہے تھے اور ویسے بھی سائمہ تمہیں پسند بھی تھی پِھر آخر ایسی کیا بات ہے تم شادی کی رات سے لے کر اب تک خاموش ہو کیا مسئلہ ہے مجھے بتاؤ میں تمھاری بڑی باجی ہوں کیا کوئی سائمہ کے ساتھ مسئلہ ہوا ہے . مجھے بتاؤ شاید میں تمھاری کوئی مدد کر سکوں. میں باجی کی بات سن کر تھوڑا بوكھلا سا گیا اور پِھر یکدم اپنے آپ کو سنبھالا اور باجی کو کہا باجی کوئی بھی ایسی بات نہیں ہے اور نہ ہی سائمہ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہے . آپ بلا وجہ پریشان نا ہوں . باجی نے کہا پِھر اپنے کمرے میں ہی کیوں بیٹھے رہتے ہو باہر کیوں نہیں نکلتے پِھر باجی تھوڑا ہنس کر بولی لگتا میرے چھوٹے بھائی کو سائمہ کی یاد بہت آتی ہو گی. میں باجی کی بات سن کر شرما گیا اور بولا نہیں باجی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے . باجی نے کہا اگر میرا بھائی اداس ہے تو میں سائمہ کو فون کرتی ہوں کے وہ جلدی واپس آ جائے اور آ کر میرے بھائی کا خیال رکھے . میں فوراً بولا نہیں باجی ایسا نہیں کرو میں بالکل ٹھیک ہوں کوئی اداس نہیں ہوں آپ اس کو نہ بلاؤ وہ اپنے ماں باپ کے گھر گئی ہوئی ہے اس کو رہنے دو . باجی نے کہا اچھا ٹھیک ہے نہیں کرتی لیکن تم پِھر اپنی حالت ٹھیک کرو کوئی باہر نکلو کسی سے ملو بات کرو . میں نے کہا جی باجی آپ فکر نہ کریں میں جیسا آپ کہہ رہی ہیں ویسا ہی کروں گا. پِھر باجی کچھ دیر وہاں بیٹھی یہاں وہاں کی باتیں کرتی رہی اور پِھر اٹھ کر چلی گئی . میں نے سوچا مجھے گھر میں کسی کو شق میں نہیں ڈالنا چاہیے جب سائمہ آئے گی تو اس سے بات کر کے ہی کچھ آگے کا سوچوں گا2 دن کے بَعْد باجی اپنے گھر چلی گئی اور دن یوں ہی گزر رہے تھے پِھر کوئی ایک ہفتے بَعْد سائمہ واپس آ گئی اس کے ماں باپ ہی اس کو چھوڑ نے آئے تھے وہ ایک دن رہ کر واپس چلے گئے . میں ہر روز ہی سائمہ کے ساتھ بات کرنے کا سوچتا لیکن وقعت آنے پے میری ہمت جواب دے جاتی تھی . میں تقریباً ہر دوسرے دن ہی سائمہ کو چودلیتا تھا اس اس کا میرے ساتھ کھل کر ساتھ دینا اور ہنسی خوشی میرے ساتھ رہنا اور باتیں کرنا میرے شق کو ختم کر دیتا تھا لیکن اکیلے میں میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا رہتا تھا . اور یوں ہی دن گزرتے جا رہے تھے اور آخر کام میری چھٹی ختم ہو گئی مجھے پاکستان آئے ہوئے 3 مہینے ہو گئے تھے اور میں ان 3 مہینوں میں سائمہ سے بات تک نہ کر سکا اور یوں ہی واپس سعودیہ چلا گیا . میں جب سعودیہ سے گھر پے فون کرتا تو سائمہ میرے ساتھ ہنستی خوشی بات کرتی رہتی تھی . مجھے سعودیہ واپس آ کر 1 سال ہو چکا تھا اِس دوران میں نے نوٹ کیا میری چھوٹی بہن نبیلہ مجھے سے زیادہ بات کرنے لگی تھی اور مجھے گھر کی ایک ایک بات بتاتی تھی اور میرے بارے میں ہوچھتی رہتی تھی . مجھے ایک وقعت پے شق ہوا شاید نبیلہ مجھے کچھ کہنا چاہتی ہے لیکن وہ کہہ نہیں پاتی اور ہر دفعہ بس یہاں وہاں کی باتیں کر کے فون بند کر دیتی تھی . میرے سعودیہ آ جانے سے سائمہ زیادہ تر اپنے ماں باپ کے گھر ہی رہتی تھی . کبھی 1 مہینہ اپنے ماں باپ کے پاس کبھی اپنے سسرال میں بس یوں ہی اس کا نظام بھی چل رہا تھا. یوں ہی 2 سال پورے ہوئے اور میں پِھر پاکستان چھٹی پے گھر آ گیا . مجھے آئے ہوئے 1 ہفتہ ہو گیا تھا . ایک دن میں نے اپنے ابا جی اور امی سے کہا کے آپ نبیلہ کے لیے کوئی رشتہ دیکھیں اب اس کی عمر بہت ہو گئی ہے . میری یہ بات کرنے کی دیر تھی وہاں پے بیٹھی نبیلہ غصے سے اٹھی اور منہ بناتی وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئی . پِھر ابا جی بولے کے وسیم پتر دیکھ لیا ہے اِس کا غصہ ہم تو اِس کے پیچھے 2 سال سے لگے ہوئے ہیں، لیکن یہ ہے کے بات ہی نہیں مانتی . رشتہ تو بہت ہی اچھا ہے اِس کے لیے لیکن یہ مانتی ہی نہیں ہے . میں نے کہا ابا جی لڑکا کون ہے مجھے بتائیں تو ابا جی نے کہا لڑکا کوئی اور نہیں تیری پھوپھی کا بیٹا ہے ظھور پڑھا لکھا ہے شکل صورت والا ہے سرکاری ملازم ہے . میں نے جب ظھور کا سنا تو سوچنے لگا کے گھر والوں نے رشتہ تو اچھا دیکھا ہوا ہے لیکن آخر یہ نبیلہ مانتی کیوں نہیں ہے. پِھر میں نے کہا ابّا جی آپ فکر نہ کریں میں نبیلہ سے خود بار کروں گا .اور اگلے دن شام کو میں چھت پے چار پای پے لیٹا ہوا تھا تو کچھ دیر بعد ہی نبیلہ اوپر آ گئی اس نے دھو نے والے کپڑے اٹھا ے ہوئے تھے شاید وہ دھو کے اوپر چھت پے ڈالنے آئی تھی. جب وہ کپڑے ڈال کر فارغ ہو گئی تو بالٹی وہاں رکھ کر میرے پاس آ کر چار پائی پے بیٹھ گئی اور بولی وسیم بھائی مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے . میں بھی اٹھ کر بیٹھ گیا اور بولا نبیلہ مجھے بھی تم سے ایک بات کرنی ہے . تو نبیلہ بولی بھائی اگر آپ نے مجھے سے میری شادی کی بات کرنی ہے تو میں آپ کو صاف صاف بتا دیتی ہوں مجھے شادی نہیں کرنی ہے . میں نبیلہ کی بات سن کر حیران ہو گیا اور اس کی طرف دیکھنے لگا پِھر میں نے کہا نبیلہ میری بہن آخر مسئلہ کیا ہے تمہیں شادی کیوں نہیں کرنی ہے . کیا تمہیں ظہور پسند نہیں ہے یا کوئی اور ہے جس کو تم پسند کرتی ہو . مجھے بتاؤ یقین کرو میں برا نہیں گا اور غصہ نہیں کروں گا تم جیسا چاہو گی ویسا ہی ہو گا . نبیلہ فوراً بولی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے مجھے کوئی اور لڑکا پسند نہیں ہے اور نہ ہی میں ظہور کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں میں بس اپنے گھر میں ہی رہنا چاہتی ہوں اپنے ماں باپ کے ساتھ مجھے شادی کی کوئی ضرورت نہیں ہے . تو میں نے کہا نبیلہ میری بہن تم پاگل تو نہیں ہو دیکھو اپنی عمر دیکھو 27 سال ہو گئی ہو کیوں اپنے اوپر ظلم کر رہی ہو . اچھی بھلی جوان ہو خوبصورت ہو کیوں اپنی زندگی تباہ کرنے لگی ہوئی ہو . تو وہ بولی بھائی مجھے یہ زندگی منظور ہے لیکن کم سے کم آپ کی طرح تو نہیں ہو گا نہ کے بِیوِی بھی ہو اور آپ کی نہ ہو اور بندہ اندر ہی اندر زخم کھاتا رہے . وہ یہ بات بول کر لال سرخ ہو چکی تھی اور وہاں سے بھاگتی ہوئی نیچے چلی گئی. نبیلہ کے اِس آخری بات نے مجھے حیرت کا شدید جھٹکا دیا اور میں حیران وپریشان بیٹھا سوچ رہا تھا کے نبیلہ کیا کہہ کر گئی ہے . وہ کیا کہنا چاہتی تھی . کیا میرے اندر جو اتنے سال سے شق ہے کیا وہ اس کو جانتی ہے . کیا وہ سائمہ كے بارے میں بھی جانتی ہے . ایک دفعہ پِھر میرے دِل ودماغ میں سائمہ والی بات گونجنے لگی . میں یہ ہی سوچتا سوچتا نیچے اپنے کمرے میں آ گیا اور تو دیکھا سائمہ کسی کے ساتھ فون پے بات کر رہی تھی . مجھے دیکھتے ہی فون پے بولی اچھا امی پِھر بات کروں گی . اور فون بند کر دیا . اور مجھ سے بولی آپ کے لیے چائے لے آؤں . میں نے کہا ہاں لے آؤ اور وہ کچن میں چلی گئی . پِھر اس رات میں نے سائمہ کے ساتھ کچھ نہیں کیا اور جلدی ہی سو گیا . میں اب موقع کی تلاش میں تھا کے مجھے اکیلے میں موقع ملے تو میں نبیلہ سے کھل کر بات کروں گا . لیکن شاید مجھے موقع نہیں مل سکا اور ایک دن لاہور سے خبر آئی کے سائمہ کے ابو یعنی میرے چا چا جی زیادہ بیمار ہیں . میں سائمہ کو لے کر لاہور آ گیا چا چا کی طبیعت زیادہ خراب تھی وہ اسپتال میں ایڈمٹ تھے میں سیدھا چا چے کے پاس اسپتال چلا گیا ان کوگرد ےفیل ہو چکے تھے وہ بس اپنی آخری سانسیں گن رہے تھے . میں نے جب چا چے کی یہ حالت دیکھی تو مجھے رونا آ گیا کیونکہ میری چا چے کے ساتھ بہت محبت تھی بچپن میں بھی چا چے نے مجھے کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی . جب چا چے نے مجھے دیکھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے . میں وہاں بیٹھ کر چا چے کے ساتھ آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگا . کچھ دیر کے لیے میں باہر گیا اور نبیلہ کے نمبر پے کال کی اور اس کو بتایا کے ابّا جی کو لے کر تم سب لاہور آ جاؤ چا چے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے . پِھر دوبارہ آ کر چا چے کے پاس بیٹھ گیا جب میں اندر آیا تو اس وقعت کوئی بھی اندر نہیں تھا میں اکیلا ہی چا چے کے ساتھ بیٹھا تھا . میں نے چا چے ہاتھ پکڑ کر ان کے ماتھے پے پیار کیا تو چا چے نے مجھے اشارہ کیا کے اپنا کان میرے منہ کے پاس لے کر آؤ میں جب چا چے کے نزدیک ہوا تو چا چے نے کہا وسیم پتر مجھے معاف کر دینا میں نے تیرے ساتھ ظلم کیا ہے . تیری چا چی اور تیری بِیوِی سائمہ ٹھیک نہیں ہیں اور تو خدا کے لیے میری چھوٹی بیٹی کو ان سے بچا لینا . میں نے کہا چچا جی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں . بس پِھر چا چے کے منہ سے اتنا ہی لفط نکلا نبیلہ اور شاید چا چے کی سانسوں کی ڈوری ٹوٹ چکی تھی . چا چے کا سانس اُکھڑ نے لگ گئی تھی میں بھاگتا ہوا باہر گیا ڈاکٹر کو بلا نے کے لیے لیکن شاید قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا جب میں واپس ڈاکٹر کو لے کر کمرے میں داخل ہوا تو چا چا جی اِس دُنیا کو چھوڑ کر جا چکے تھے. پِھر ہم میت لے کر گھر آ گئے میرے ابّا جی اور میرے گھر والے بھی شام تک آ گئے تھے . میرے ابّا جی بہت روے کیونکہ ان کا ایک ہی بھائی تھا . میں بھی بہت رویا اور سوچتا رہا کے چا چے کو پتہ نہیں کیا کیا دُکھ سائمہ اور چا چی نے دیئے ہوں گے جو وہ مجھے ٹھیک طرح سے بتا بھی نا سکے. جب جنازہ وغیرہ ہو گیا تو چا چے کے گھر پر میں نے ایک اجنبی سا بندہ دیکھا اس کی عمر شاید 29یا30 سال کے لگ بھاگ لگ رہی تھی. وہ بندہ اجنبی تھا میں تو اپنے سارے رشتے دارو ںکو جانتا تھا .۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔( نوٹ ہر صرف دو ہی قسط سینڈ ہوگی کیونکہ ساتھ ساتھ کہانی لکھی بھی ہے )

کہانی کو مزید اور بنایا جائے
جواب دیںحذف کریں