Bv ki chudai geer mard se part 15
بیوی کی چدائی غیر مرد سے
دوسرا سیزن
قسط نمبر 5
بہزاد کنگ
سامینا نے پیچھے سے اپنی گانڈ ۔۔۔کچھ اس طرح سے اوپر اٹھائی ہوئی تھی۔۔۔جس سے راجہ کو اس کا نظارہ بلکل صاف دکھائی دے رہا تھا ۔۔ پھر میں نے راجہ کی طرف دیکھا۔۔تو میری بیوی کی سیکسی گانڈ کو دیکھ کر شدت جزبات سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔اور اس کا لنڈ واضع طور پر نیکر میں کھڑا ہوتے ہوئے نظر آ رہا تھا۔۔پھر میری شریف بیوی نے اس پر ایک اور ستم ڈھایا اور وہ یہ کہ بیٹھے بیٹھے۔۔اس نے اپنی ٹانگوں کو تھوڑا سا مزید کھول دیا۔۔کہ جس سے اس کی نگاہ۔۔۔سامینا کی انر تھائی سے ہوتی ہوئی۔۔۔اس کی ٹرانپیرنٹ پینٹی تک چلی گئی تھی ۔۔وہ بہت آہستہ سے فرش کو صاف کر رہی تھی۔۔اف سامینا کی پینٹی کو دیکھ کر اس کی نیکر آگے سے تمبو بن گئی۔۔۔اپنے لن کی اکڑاہٹ دیکھ کر اس نے دونوں ہاتھوں سے اس کو چھپا لیا۔۔۔۔اور میں نے دیکھا کہ اس کا عضو تناسل اس کی نیکر میں پھولا ہوا تھا ۔۔۔اس کا پھولا ہوا لن دیکھ کر میرے اندر ایک عجیب سی لذت بھر گئی۔۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف ۔۔اس کی آنکھیں میری شریف بیوی کی موٹی گانڈ سے چپکی ہوئی تھیں۔۔پھر نجانے میری نیک اور پاک بیوی کے من میں کیا آیا کہ اس نے بیٹھے بیٹھے۔۔۔۔اپنی چوت پر خارش کی۔۔ ۔۔لیکن اس خارش کے لیئے اس نے بڑے طریقے سے اپنی پینٹی کو تھوڑا سائیڈ پر کر لیا۔۔۔۔اف میری بیوی کی ننگی گانڈ دیکھ کر اس کا لن نیکر میں مسلسل جھٹکے مار رہا تھا۔۔یہ سب چھپانے کے لیئے۔۔۔۔ وہ ایک طرح کا کپ بنا کر اپنے ہاتھوں سے ۔۔اکڑے ہوئے لن کو ڈھانپنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔فرش صاف کرنے کے بعد میری بیوی اوپر اٹھی۔۔۔۔اور راجہ کی طرف دیکھے بغیر ہی باہر نکل گئی۔۔
اس کے باہر جاتے ہی راجہ نے سب سے پہلے اپنے لن پر رکھے ہاتھ کر ہٹایا۔۔اور پھر ایک گہرا سانس لینے لگا۔۔کچھ دیر انتظار کے بعد جب اسے یقین ہو گیا کہ اس کی ماسی اب واپس نہیں آئے گی۔۔تو ۔۔پھر اس نے لن کو نیکر سے باہر نکالا۔۔۔اور اسے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔واؤؤ۔۔اس کاننگا لن دیکھ کر میرے اندر کچھ کچھ ہونے۔۔۔اس کا لوڑا۔گورا۔۔اور ساڑھے چھ انچ کے قریب ہو گا۔۔خاص بات اس کا پنکش ٹوپا تھا۔۔۔ جو کہ باقی لنڈ کی نسبت کافی موٹا تھا۔۔اسی موتے ٹوپے کودیکھ کر میرے اندر شہوت کی آگ جلنا شروع ہو گئی تھی۔۔۔۔جبکہ دوسرے طرف راجہ نے لوڑے کو باہر نکالا۔۔پھر اس پر تھوک پھینکا۔۔۔اور آنکھیں بند کر تے ہوئےمٹھ مارنا شروع ہو گیا۔۔۔یقینی طور پر وہ اپنے تصور میں خالہ کی موٹی گانڈ لایا ہو گا۔۔دوسری طرف۔۔۔۔۔ میں اس کی ایک ایک مومنٹ کی تصویر بنا رہا تھا۔۔۔وہ اتنا گرم ہو رہا تھا کہ مٹھ مارنے کے کچھ دیر بعد ہی اس کے جسم نے جھٹکا کھایا۔۔۔اور حیرت انگیز طور پر اس کے لن سے نکلنے والی منی اڑتے ہوئے کافی دور تک گئی۔۔۔یہ والا منظر میرے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا۔۔ادھے جیسے ہی اس کی مٹھ ختم ہوئی۔۔میں دبے پاؤں وہاں سے نکلا۔۔۔اور اپنے کمرے میں آ گیا۔۔جہاں سامینا بڑی بے چینی سے میرا انتظار کر رہی تھی۔
اب میں اس کے پاس گیا اور کیمرے سے کھنچی ہوئیں ساری تصویریں۔۔۔صاف کرنے کے بعد۔۔۔ اس کے سامنے رکھ دیں۔۔۔ راجہ کے لنڈ والی پکچر دیکھ کر سامینا نے ایک بہت ہی گرم آہ بھری تھی۔۔اس کا مطلب یہ تھا کہ اسے بھی راجہ کا لن اچھا لگا تھا۔۔چنانچہ ۔۔اس کی آہ سن کر میں جھٹ سے بولا۔۔۔لگتا ہے تجھے اپنے بھانجے کا لنڈ پسند آ گیا ہے۔۔۔اس نے میری طرف بڑے غور سے دیکھا۔۔۔لیکن چپ رہی ۔۔تب میں دوبارہ اس سے بولا۔۔۔اب بول رانڈ۔۔کیا تجھے یقین آ گیا کہ ۔تیرا بھانجھا تجھ پر گرم ہے کہ نہیں؟۔۔۔اس پر اس نے راجہ کی ننگی تصویروں سے نظر ہٹائی۔۔۔اور بڑے ہی عجیب لہجے میں کہنے لگی۔۔۔تم کیا چاہتے ہو؟۔میں اس کو جواب دیتے ہوئے بولا ۔۔۔میں جو چاہتا ہوں تم اچھی طرح سے جانتی ہو۔۔۔۔۔تو وہ اسی لہجے میں کہنے لگی۔۔ تو گویا کہ تمہاری خواہش ہے کہ میں اپنے بھانجھے کا موٹا تازہ لن دیکھوں۔۔ اسے ہاتھ میں پکڑوں ۔۔۔ یا پھر تمہاری نظروں کے سامنے اسے چوسوں؟۔۔ بلکل اسی طرح ۔۔جس طرح کہ میں نے تھیٹر میں اس لڑکے کا لنڈ چوسا تھا؟۔۔ اس پر میں انکار میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔۔۔۔نہیں ۔۔بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم ۔۔۔میرے سامنے اس سے چوت مرواؤ۔۔میری بات سن کر اس نے بڑے غصے سے میری طرف دیکھا ۔۔اور پھر کہنے لگی شرم کرو عادل۔۔میری تیری عزت ہوں۔۔ لوگ تو اپنی عزت کے لیئے جان بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔۔۔اور تم ہو کہ مجھ سے اپنی عزت دینے کی بات کر رہے ہو۔۔تو میں اس سے بولا۔۔۔وہ بے چارہ اتنا ترس رہا ہے۔۔ اگر تم اس کو تھوڑی سی پھدی دے دو گی تو اس میں تمہارا کیا جائے گا؟۔۔اس پر وہ افسوس بھرے لہجے میں بولی۔۔۔۔ ۔۔۔۔کبھی کبھی مجھے ایسے لگتا ہے کہ جیسے تم میرے شوہر نہیں بلکہ کوئی دلے ہو۔۔۔ایسا بے غیرت آدمی ۔۔۔جو کہ اپنی نظروں کے سامنے بیوی کو کسی غیر سے چدوانا چاہتا ہے۔۔جانے کیوں اس کے منہ سے ایسے ریمارکس سن کر مجھ پر اک انجان سا نشہ چڑھ گیا۔۔پھر میں اس سے بولا۔۔۔اری او چھنال عورت۔۔ زیادہ نیک پروین بننے کی کوشش نہ کر۔۔۔لنڈ کی تصویر دیکھ کر۔۔ تم نے میرے سامنےاک گرم آہ بھری تھی۔۔اور مجھے یقین ہے کہ تیری پھدی نے بھی قطرہ ٹپکایا ہو گا۔۔اتنا کہہ کر میں نے اس کی پیٹنی پر ہاتھ لگایا۔۔تو وہ خاصی گیلی ہو رہی تھی۔۔۔یہ دیکھ میں اس سے بولا۔۔۔چھنال ۔تیری چوت تو کچھ زیادہ ہی پانی چھوڑ رہی ہے۔۔۔اس لیئے ڈرامہ نہ کر۔۔۔۔۔بلکہ جیسا کہہ رہا ہوں ویسا کر۔۔۔تو وہ ایک گہرا سانس لے کر بولی ٹھیک ہے جیسا تم کہہ رہے ہو میں ویسا کرنے کو تیار ہوں۔۔۔لیکن میری بھی ایک شرط ہے۔۔۔اور وہ یہ کہ راجہ کے لوڑے پر تم خود تھوک لگا کر میری چوت میں ڈالو گے۔۔بولا منظور ہے؟ مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں