Bv ki chudai geer mard se part 14
بیوی کی چدائی غیر مرد سے
دوسرا سیزن
قسط نمبر 4
تو وہ کہنے لگی۔۔مجھے معلوم ہے کہ تم ایک نمبر کے حرامی اور بے حیا ہو چکے ہو۔۔جو منہ میں آتا ہے ۔۔۔بس کہے دیتے ہو۔۔۔اس کے بعد میں نے اس پر تھوڑی سی اور محنت کی۔۔اور بآخر کار۔۔ اسے تجربہ کرنے کے لیئے منا ہی لیا۔۔۔اس وقت سامینا نے اپنی پسندیدہ ٹرانپیرنٹ نائیٹی پہنی ہوئی تھی جس میں سے اس کا دل کش ۔۔۔اور سیکسی بدن۔۔۔ صاف چھپتا بھی نہیں اور سامنے آتا بھی نہیں تھا۔۔۔کا منظر پیش کر رہا تھا۔۔ ۔۔میں نے اس کے جسم کا بھر پور جائزہ لیا۔۔۔۔پھر اس سے بولا۔۔تم اسی حالت میں اس کے پاس جاؤ۔۔۔۔۔تو وہ بڑے غصے میں کہنے لگی۔۔۔شرم کرو میں اس حلیئے میں اس کے پاس جا کر کیا کہوں گی؟۔۔اسی وقت میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور میں نے کہا ایسا کرو کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دودھ کا ایک گلاس لے جا کر اسے دو۔۔۔نائٹی پر چادر پہن لو۔۔۔۔پھر باتوں باتوں میں نائٹی کو اپنے بدن سے سرکا دینا۔۔۔۔۔پھر تماشہ دیکھنا۔۔۔
تو وہ کہنے لگی۔۔۔۔ فرض کرو میں یہ کر بھی لوں۔۔۔تو مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ وہ مجھ پر ہاٹ ہو رہاہے؟۔۔۔اس پر میں بولا۔۔۔اس کے لیئے میں جو ہوں۔۔تو وہ میری نقل اتارتے ہوئے بولی۔۔۔۔ہاں مجھے معلوم ہے کہ میراشوہر بے شرم ہی نہیں بے غیرت بھی ہے۔ جو اپنی بیوی کی نمائش پر خوش ہوتا ہے۔۔میں نے اس کی بات ان سنی کر دی۔۔پھر الماری سے اپنا پولورائیڈ کیمرہ نکالا جو کہ میں دبئی سے لایا تھا۔۔۔اس کیمرے کی خاص بات یہ تھی کہ یہ اسی وقت پرنٹ دے دیتا تھا۔۔۔مطلب دوسرے کیمروں کی طرح فوٹو کھینچ کر بازار سے دھلوانے نہیں پڑتی تھی۔۔۔۔مجھے کیمرہ ریڈی کرتے دیکھ کر وہ کہنے لگی۔۔۔۔تمہارا ارادہ کیا ہے؟۔۔۔تب میں نے اسے اپنے منصوبے سے آگاہ کیا۔۔۔۔میری بات سننے کے بعد وہ پہلی دفعہ مسکرا کر بولی۔۔۔ویسے تم ایک نمبر کے حرامی اور بےغیرت اور ٹائپ کے جتنےآدمی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔تم وہ ہو۔۔جو کہ خواہ مخواہ ہی میرے معصوم بھانجھے کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔۔اپنی شریف بیوی کے منہ سے حرامی۔۔اور بےغیرت کا لفظ سن کر مجھے بہت مزہ آیا۔۔دوسرا مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔کہ میری چھنال بیوی۔۔۔۔۔۔اپنے نوخیز بھانجھے کو اپنا سیکسی۔۔۔۔بدن دکھانے میں لذت محسوس کر رہی تھی۔
سامینا نے اپنے سیکسی جسم پر ایک دوپٹہ اوڑھا۔۔اور کچن کی طرف چل دی۔۔۔میں کچن میں جانے کی بجائے راجہ کے کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔۔جہاں کھڑکی پہ کھڑے ہو کر میں نے نہ صرف ان کی ساری کاروائی دیکھنی تھی بلکہ خاص موقعہ پر اس کی پکچر زبھی بنانی تھی۔وہاں پہنچ کر میں نے اندر جھانک کر دیکھا۔۔تو راجہ ہاتھ میں ایک فیشن میگ لیئے صوفےپر بیٹھا اس کی ورق گردانی کر رہا تھا۔۔ یہ میگزین سامینا کا تھا جو کہ ٹائم پاس کے لیئے اسے ہر ہفتے منگوایا کرتی تھی۔۔۔۔اس کے سامنے ایک سٹول پڑا تھا۔۔راجہ میگزین دیکھنے میں مگن تھا کہ اچانک کمرے کا درازہ کھلا ۔۔۔اور میری شریف بیوی ہاتھ میں دودھ کا گلاس لیئے ۔۔۔۔اندر داخل ہو گئی۔۔۔سامینا کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس دیکھ کر راجہ کہنے لگا۔۔۔ماسی جی ۔۔یہ آپ نے کیا تکلف کیا ہے؟۔۔۔اور پھر دیدے پھاڑ پھاڑ کے۔۔۔اس کی چھاتیوں کو گھورنے لگا ۔۔۔جس پر اس نے برائے نام دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا۔۔۔اب سامینا نے اس کے سامنے جھک کر دودھ کا گلاس رکھا۔۔۔اس کے یوں جھکنے۔سے۔۔ اس کی مست چھاتیاں چھلکنے لگیں ۔۔ یوں میری بیوی کو آدھ ننگا دیکھ کر۔۔۔۔راجہ کی حالت بہت پتلی ہو گئی۔۔۔اس وقت اس نے لانگ نیکر کے اوپر بینان پہنی ہوئی تھی۔۔۔ادھر سامینا دودھ سے بھرے گلاس کو سٹول پر رکھتے ہوئے بولی۔۔
۔میں سونے لگی تھی کہ یاد آیا کہ تمہیں دودھ دینا ہے۔۔راجہ کے ساتھ بے دھیانی میں باتیں کرتے ہوئے۔۔۔میری شریف بیوی نے بظاہر انجانے میں ۔۔لیکن جان بوجھ گلاس پر ہاتھ مارا۔۔۔جس سے دودھ تھوڑا سا چھلکا۔۔۔اور پھر زمین پر گر گیا۔۔ اسکے یوں نیچے گرنے سے فرش کے ساتھ ساتھ میری بیوی کا دوپٹہ بھی خراب ہو گیا۔۔یہ دیکھ کر پہلے تو میری بیوی نے اس کے ساتھ سوری کیا۔۔۔پھر بھاگ کر باہر آئی اور کچن سے ایک کپڑا لے گئی۔۔اورپھر راجہ کی طرف پشت کرتے ہوئے ۔۔۔پہلے تو سٹول صاف کیا۔۔۔اس کے بعد وہ اسی حالت میں فرش پر اکڑوں بیٹھ گئی۔یہ صورت حال دیکھ کر راجہ بھی اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔اور کہنے لگا لائیں ماسی جی میں صاف کر دیتا ہوں۔۔۔جس وقت راجہ اپنی سیٹ سے اٹھا تھا تو میں نے دیکھا کہ اس کی نیکر کافی حد تک اوپر کو اٹھی ہوئی تھی۔۔چنانچہ میں نے جھٹ سے اس کی اٹھی ہوئی نیکر کی تصویر بنا لی۔۔۔ ۔ وہ مدد کے لیے میری طرف آیا اور اسے صاف کرنے کی پیشکش کی۔ لیکن میری شریف بیوی نے اسے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔۔۔اور پھر فرش پر گھٹنوں کے بل جھک کر جان بوجھ کر اپنی گانڈ۔۔۔ اس کی طرف کرتے ہوئے آہستہ آہستہ فرش صاف کرنے لگی
😍🤩

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں