Bv ki chudai geer mard se part 12
بیوی کی چدائی غیر مرد سے
دوسرا اور آخری حصہ
قسط نمبر 2
میں اپنی شریف بیوی سے بولا۔۔۔ یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم ۔۔کہ ایسا کیسے ہو گیا؟۔۔۔۔ لیکن جب اس لڑکے نے تیری نرم جانگھ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔تو جانے کیوں۔۔۔اسے دیکھتے ہوئے۔۔۔ مجھ پر ایک انجان سا نشہ طاری ہو گیا تھا۔۔اس لیئے میں نے سوچا ۔۔جب تیری نرم ران پر کسی غیر کا ہاتھ دیکھ کر اتنا مزہ مل رہا ہے۔۔تو پھر چوت میں جاتے دیکھ کر کیسا مزہ ملے گا؟۔۔سو میں نے ایسا ہونے دیا۔۔ اس نے کہا۔۔مطلب ۔۔۔میری چوت پر کسی غیر مرد کا ہاتھ آپ کو اچھا لگا؟۔۔میں نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔بولا نا کہ مجھے آپ مت بولا کر ۔۔تو وہ کہنے لگی۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔لیکن بتاؤ نا میرے بے غیرت پتی ۔۔تمہیں میری پھدی پر کسی غیر کا ہاتھ کیسا لگا۔۔؟۔۔میں جھٹ سے بولا۔۔ ایک دم مست لگا۔۔تم نے دیکھا نہیں تھا کہ جب اس نے تیری چوت میں انگلی کی تھی ۔۔تو اسے دیکھتے ہوئے۔۔ میرا لوڑا کیسے جھٹکے مار رہا تھا۔۔میری بات سن کر وہ افسوس کے انداز میں کہنے لگی۔۔اف عادل تم کتنے بےغیرت ۔۔اور بے حیا شوہر ہو۔۔۔ایک غیر لڑکا میری پھدی سے چھڑ چھاڑ کر رہا تھا اور تم بجائے اس کے کہ اسے کچھ کہتے۔۔۔۔۔۔اسے دیکھ کر مزےلے رہے تھے۔۔تب میں سامینا سے بولا۔۔۔ ۔۔۔ایک بات تو بتا میری گشتی رانڈ۔۔کہ میرے اتنے کہنے پر بھی تو نے آج تک۔۔ میرا لوڑا نہیں چوسا۔۔۔لیکن اس لڑکے کے کہنے پر۔۔۔کیونکر۔۔۔۔اس کا لنڈ۔۔۔بنا دیری کیے۔۔۔ جھٹ سے اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔ ۔بلکہ۔۔۔ لن سے بہنے والی ساری منی بھی اپنے منہ میں بھر لی تھی ۔۔۔اس پر سامینا پھر سے شرماتے ہوئے بولی۔۔۔جیسے تم اس کے ہاتھ کو میری چوت پر دیکھ کر خوش ہوئے تھے۔۔۔ویسے ہی جب ۔۔۔۔اس نے میرا سر اپنے لنڈ کی طرف کیا۔۔۔تو ناجانے کیسے میں۔۔۔ اس کا موٹا لنڈ نہ صرف چوسنے پہ رضا مند ہو گئی۔۔۔بلکہ چھوٹنے کے بعد۔۔۔اس کی ساری منی کو اپنے منہ میں جمع کر لیا۔۔۔۔پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔تو یہ بتا کہ۔۔۔ایک پرائے لڑکے کی منی بنا ہچکچاہٹ کیسے پی گیا؟۔۔۔تو میں چسکہ لیتے ہوئے بولا۔۔۔تم نے میرے منہ میں ڈالی کیوں تھی؟۔۔ توآگے سے وہ کہنے لگی۔۔۔سچ پوچھو تو میرے پیارے پتی دیو۔۔۔خود مجھے بھی اس بات کا نہیں معلوم کہ میں نے یہ سب کیسے کر لیا۔۔۔۔
ہم اس طرح کی ہاٹ باتیں کرتے ۔۔۔ ادھر ادھر پھرتے پھراتے جب ہم گھر پہنچےتو اس وقت رات كے 2 بج رہے تھے۔۔اس رات سامینا نے ۔۔میرے بنا کہے۔۔۔ بہت اچھے سے میرا لنڈ چوسا ۔۔۔اور پھر اس لڑکے کے ساتھ کیئے ہوئے سیکس کو یاد کر کے ہم نے بھر پور چدائی کی۔۔ رات دیر گئے تک موج مستی اور چدائی کی وجہ سے ہم اگلے دن بہت لیٹ اٹھے ۔۔۔۔پھر ناشتہ کے بعد میں نے ایک بار پھر سے شریف بیوی کو اپنا لن چسوایا۔۔۔اور ساری منی اس کے منہ میں ہی بہا دی۔۔۔۔جسے اس نے بڑے شوق سے پیا۔۔۔اس کے بعد وہ نہانے کے لیئے واش روم چلی گئی ۔۔۔جبکہ میں اپنے دوستوں کی طرف جانے کی تیاری کرنے لگا۔۔اس دوران اچانک ہمارے گھر کی بیل بجی۔۔۔۔۔۔جسے سن کر میں کافی حیران ہوا ۔۔۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے گھر کسی کا آنا جانا نہیں تھا۔۔۔اس لیئے میں نے یہ سوچ کر کہ ضرور کسی مانگنے والے نے بیل دی ہو گی۔۔۔اسے اگنور کر دیا۔۔لیکن پھر دوسری۔۔اور تیسری ڈور بیل پر۔۔۔واش روم سے سامینا کی آوازسنائی دی کہ جا کر دیکھو تو باہر کون آیا ہے؟۔۔۔۔۔۔سو میں نے باہر جا کر دورازہ کھول کر دیکھا۔۔۔۔۔تو سامنے راجہ کھڑا تھا۔۔۔
راجہ کے بارے میں بتا دوں کہ یہ سامینا کی سب سے بڑی بہن کا بیٹا تھا۔۔۔۔۔ جس کی عمر 17/18 سال تھی ۔۔۔وہ ایک گورا چٹا اور گھپلو مپلو (بھرے بھرے جسم والا ) سا لڑکا تھا ۔۔چونکہ وہ دیکھنے میں کافی خوبصورت۔۔اور بےبی فیس تھا۔۔ ۔۔اس لیئے گھر والوں نے بچپن سے ہی اس کا نک نیم راجہ رکھ دیا تھا۔۔ ۔۔پھر۔۔جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس نے بڑے ادب سے مجھے ہیلو کہا۔۔اور پھر مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا۔۔۔ ماسہ جی آپ کیسے ہیں؟ ماسی کہاں ہیں۔؟ پھر رسمی بات چیت کے بعد میں اسے ساتھ لیئے کمرے میں آ گیا۔۔یہاں آ کر اس نے اپنا بیگ ایک طرف رکھا پھر مجھ سے کہنے لگا ۔۔انکل ماسی جی کہاں ہیں؟۔ تو میں نے اس کو کہا ۔۔کہ وہ نہا رہی ہیں تھوڑی دیر تک باہر آ جائیں گی۔۔۔یہ سن کر اس نے سر ہلایا۔۔۔۔اور پھر مجھ سے دوبئی کی باتیں کرنا شروع ہو گیا۔۔۔تھوڑی سی گپ شپ کے بعد میں اس سے بولا۔۔تم بیٹھو میں تمہارے لیئے کچھ ٹھنڈا لاتا ہوں۔۔۔اتنا کہہ کر میں کچن کی طرف چلا گیا۔۔جہاں پر میں نے فریج سے ٹھنڈی بوتل کو ایک کانچ کے گلاس میں بھرا۔پھر اسے ٹرے میں رکھ کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔۔ابھی میں دروازے میں پہنچا ہی تھا۔۔۔کہ اس دوران۔۔ اچانک ہی واش روم کا دروازہ کھلا۔۔۔۔اور سامینا اس حال میں واش روم سے باہر نکلی کہ وہ اپنے گیلے بالوں کو ٹاول سے خشک کر رہی تھی ۔۔
۔ اس وقت اس نے کاٹن کی ایک باریک سی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس کا رنگ سفید تھا۔۔۔۔ جبکہ شرٹ کے اوپر والا بٹن کھلا ہوا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے اس کی چھاتیاں کا کلیویج بہت نمایاں نظر آ رہا تھا۔۔۔میرے خیال میں اس نے نہانے کے فورا ً بعد اپنے جسم کو اچھی طرح سے نہیں سکھایا تھا۔۔۔تبھی تو اس کی شرٹ۔۔۔ گیلے بدن سے چپکی ہوئی تھی۔۔۔۔دوسری بات یہ کہ اس نے شرٹ کے نیچے برا بھی نہیں پہنی ہوئی تھی۔۔۔ جس کی وجہ سے اس کی بھاری چھاتیاں۔۔۔اور جسم صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ بلکہ اس کی چھاتیوں پر موٹے موٹے نپلز بھی گیلے ہو کر ننگے ہی نظر آ رہے تھے ۔۔۔۔اس وقت سامینا بڑی ہی سیکسی ُلک دے رہی تھی۔۔۔وہ اپنے دھیان کمرے داخل ہو گئی۔۔۔دوسری طرف میں نے دیکھا کہ راجہ بڑے ہی غور سے اپنی ماسی کے سیکسی جسم کو تاڑ رہا تھا۔۔۔اور خاص کر سامینا کی بھاری چھاتیوں کے موٹے نپلز کو دیکھ کر تو ۔۔اس نے باقاعدہ اپنے لن پر ہاتھ پھیرا تھا ۔۔۔جس کی وجہ سے میں سمجھ گیا کہ وہ میری شریف بیوی کا گیلا بدن دیکھ کر لطف لے رہا ہے۔۔۔دوسری طرف میری شریف بیوی ۔۔راجہ کی آمد سے بے خبر۔۔۔۔ٹاول سے بال خشک کر رہی تھی۔۔۔۔پھر جیسے ہی اس کی نظر راجہ پر پڑی ۔۔تو اسے دیکھ کر وہ ایک دم چونک اٹھی۔۔۔پھر بے اختیار آگے بڑھی اور اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولی۔۔۔راجہ میرے بچے تم کب آئے؟۔۔اور سناؤ جیجا جی اور دیدی کیسی ہیں
*

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں